1
/
of
3
Wear ghalib
Mirza Ghalib 2 Piece (Peach)
Mirza Ghalib 2 Piece (Peach)
Regular price
Rs.1,599.00 PKR
Regular price
Rs.3,400.00 PKR
Sale price
Rs.1,599.00 PKR
Shipping calculated at checkout.
Quantity
Couldn't load pickup availability
NOTE : Color of the article may vary from the uploaded picture.
PRODUCT DESCRIPTION
FITS : Regular
PRODUCT TYPE : 2 Piece
SHIRT TYPE : Straight shirt with long sleeves
SHIRT FABRIC : Polly lawn
Dupatta FABRIC : Polly lawn
Presenting Our Article ( Mirza Ghalib Unstitched Two Piece ) with Beautifully Designed with Beautiful Words by Mirza Asad-ullah Khan Galib. Where He Described a Human Behavior very Boldly.
ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے
بہت نکلے مرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے
ڈرے کیوں میرا قاتل کیا رہے گا اس کی گردن پر
وہ خوں جو چشم تر سے عمر بھر یوں دمبدم نکلے
نکلنا خلد سے آدم کا سنتے آئے ہیں لیکن
بہت بے آبرو ہوکر ترے کوچہ سے ہم نکلے
بھرم کھل جائے ظالم تیری قامت کی درازی کا
اگر اس طرۂ پرپیچ و خم کا پیچ و خم نکلے
ر لکھوائے کوئی اُس کو خط تو ہم سے لکھوائے
ہوئی صبح اور گھر سے کان پر رکھ کر قلم نکلے
ہوئی اس دور میں منسوب مجھ سے بادہ آشامی
پھر آیا وہ زمانہ جو جہاں میں جام جم نکلے
ہوئی جن سے توقع خستگی کی داد پانے کی
وہ ہم سے بھی زیادہ خستۂ تیغ ستم نکلے
محبت میں نہیں ہے فرق جینے اور مرنے کا
اُسی کو دیکھ کر جیتے ہیں جس کافر پہ دم نکلے
کہاں مے خانہ کا دروازہ غالب اور کہاں واعظ
پر اتنا جانتے ہیں کل وہ جاتا تھا کہ ہم نکل
بہت نکلے مرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے
ڈرے کیوں میرا قاتل کیا رہے گا اس کی گردن پر
وہ خوں جو چشم تر سے عمر بھر یوں دمبدم نکلے
نکلنا خلد سے آدم کا سنتے آئے ہیں لیکن
بہت بے آبرو ہوکر ترے کوچہ سے ہم نکلے
بھرم کھل جائے ظالم تیری قامت کی درازی کا
اگر اس طرۂ پرپیچ و خم کا پیچ و خم نکلے
ر لکھوائے کوئی اُس کو خط تو ہم سے لکھوائے
ہوئی صبح اور گھر سے کان پر رکھ کر قلم نکلے
ہوئی اس دور میں منسوب مجھ سے بادہ آشامی
پھر آیا وہ زمانہ جو جہاں میں جام جم نکلے
ہوئی جن سے توقع خستگی کی داد پانے کی
وہ ہم سے بھی زیادہ خستۂ تیغ ستم نکلے
محبت میں نہیں ہے فرق جینے اور مرنے کا
اُسی کو دیکھ کر جیتے ہیں جس کافر پہ دم نکلے
کہاں مے خانہ کا دروازہ غالب اور کہاں واعظ
پر اتنا جانتے ہیں کل وہ جاتا تھا کہ ہم نکل
(مرزا اسداللہ خان غالب)
Share

S
Shabina Shaikh Fabric requires improvement